رکوع کی تسبیح میں ”الْعَظِیْم“ کے بجائے ”العزِیم“ پڑھنے کا حکم

Muhammad Naeem
0


*دارالافتاء اہلسنت*

  (دعوت اسلامی)


*سوال نمبر 355*


میں نماز میں ایک عرصے تک ”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم“ کے بجائے ”العزِیم“ پڑھتا تھا۔ کیامذکورہ غلطی سے تمام نمازیں واپس دوہرانی پڑیں گی.؟؟؟


*بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ*

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ


✍🏻 رکوع کی تسبیح ”سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم“ پڑھتے ہوئے ”عَظِیْم“ کے بجائے ”عَزِیْم“ پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، لہذا آپ نے جو نمازیں اس طرح پڑھیں، انہیں دوبارہ ادا کریں ۔


   بہار شریعت میں ہے :’’قراءت یا اذکارِ نماز میں ایسی غلطی جس سے معنی فاسد ہو جائیں، نماز فاسد کر دیتی ہے۔ ‘‘

📚 بہارشریعت ،جلد:1،صفحہ:614،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ


   قانون شریعت میں ہے :

’’ جس نے سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم میں عظیم کو عزیم، ظ کے بجائے ز پڑھ دیا تو نماز جاتی رہی لہٰذا جس سے عظیم صحیح ادا نہ ہو وہ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْکَرِیْم پڑھے۔ ‘‘

📕(قانون شریعت ،صفحہ:175،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)


*واللہ اعلم ورسولہ اعلم ﷺ*

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)