عقیدہ ختمِ نبوت

Muhammad Naeem
0


*ارشادِباری تعالٰی ہے* :


 *مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-* 


 ترجمہ:


 *محمد(ﷺ) تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن الله کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے آخر میں تشریف لانے والے ہیں* ۔


(پ22،الاحزاب:40)



 *تفسیر:* 


 *یہ آیتِ مبارکہ حضور پُر نور ﷺ کے آخری نبی (Last prophet) ہونے پر نَصِّ قطعی ہے اور اس کا معنیٰ پوری طرح واضح ہے جس میں کسی تاویل اور تخصیص کی ذرّہ بھر بھی گُنجائش نہیں* ۔ 


ختمِ نبوت سے متعلِّق تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضورِ اکرم ﷺ کو تمام انبیاء و مرسلین علیہمُ الصَّلٰوۃُ والسَّلام کے آخر میں مَبْعوث فرمایا اور آپ ﷺ پر نبوت و رِسالت کا سلسلہ ختم فرما دیا، آپ ﷺ کے ساتھ یا آپ ﷺ کے بعد قیامت قائم ہونے تک کسی کو نَبُوَّت ملنا مُحال ہے۔ یہ عقیدہ ضروریاتِ دین سے ہے، اس کا منکر اور اس میں ادنیٰ سا بھی شک و شبہ کرنے والا کافر، مرتد اور ملعون ہے۔


مذکورہ بالا آیت کے علاوہ بیسیوں آیات ایسی ہیں جو مختلف پہلوؤں کے اعتبار سے حضورِ انور ﷺ کے آخری نبی ہونے کی تائید و تَثْوِیب کرتی ہیں جیسے آپ ﷺ کی رِسالت کے پہلو سے دیکھا جائے تو 


*(1) ... آپ ﷺ کو سب انسانوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا* ۔


(پ9، الاعراف:158)


 *(2) ... تمام لوگوں کے لئے بشیر و نذیر بنایا گیا* ۔


(پ22، سبا:28)


*(3) ... آپ ﷺ سارے جہانوں کو عذابِ الٰہی سے ڈرانے والے* ۔


(پ18، الفرقان:01) 



*(4) ... تمام لوگوں کو کفر کی ظلمت سے ایمان کے نور کی طرف نکالنے والے*


(پ13)


 *(5) ... اور ہر جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں* ۔


(پ17، الانبیاء:107)



*(6) ... الله تعالٰی نے تمام انبیاء علیہِم الصلوۃ والسَّلام سے یہ عہد لیا کہ جب حضورِ اکرم ﷺ کی تشریف آوَری ہو تو وہ ان پر ایمان لائیں اور ان کی مدد کریں* 


(پ3،اٰل عمرٰن:81)


 ان کے بعد کسی نبی پر ایمان و مدد کا کہیں ذکر نہیں فرمایا۔


 *(7) ... آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کی تشریف آوَری کے بارے میں بتایا گیا* ۔


(پ4،اٰل عمرٰن: 144، پ17، الانبیاء:41، پ7، الانعام:34)


 لیکن آپ کے بعد کسی بھی رسول کے آنے کی خبر نہیں دی گئی۔


 *(8) ... حضرت عیسیٰ علیہ الصَّلٰوۃ والسَّلام نے تورات کی تصدیق کی اور رسولِ کریم ﷺ کی آمد کی بِشارت دی* ۔

(پ28،الصف:06) 


 جبکہ حضور پُر نور ﷺ نے اپنے بعد کسی نبی کے آنے کی بشارت نہیں دی۔


 آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کے پہلو سے دیکھا جائے تو

*(9) ... الله تعالٰی نےآپ ﷺ کا دین کامل کردیا* ۔


(پ6، المآئدہ:03)


 کہ یہ پچھلے دینوں کی طرح مَنْسُوخ نہ ہو گا بلکہ قیامت تک باقی رہے گا۔ 


*(10) ... آپﷺ کو ہدایت اور سچّے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کردے* ۔ 


(پ28، الصف:09)


 آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب قراٰنِ مجید کے پہلو سے دیکھا جائے تو

 *(11) ... الله تعالٰی نے کُتُبِ اِلٰہیّہ پر ایمان سے متعلق قراٰن اور سابقہ کتابوں کا ذکر فرمایا* ۔ 


(پ1، البقرۃ:04،پ5، النسآء: 136، 162) 


لیکن قراٰن کے بعد کسی اور آسمانی کتاب کاذِکر نہیں کیا۔


 *(12) ... قراٰن پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے* ۔


(پ26، الاحقاف: 29)


 لیکن اس نے اپنے بعد کسی کتاب کی تصدیق نہیں کی۔


 *(13) ... قراٰن تمام جہانوں کے لئے نصیحت ہے* ۔


(پ30، التکویر:26) 


 *(14) ... قراٰن پوری انسانیت کے لئے ذریعۂ ہدایت ہے* 

۔

(پ 1، البقرۃ:185)


آخر میں ایک حدیثِ پاک بھی ملاحظہ ہو،چنانچہ

 *نبیِّ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میری اور تمام انبیاء کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے ایک عمده اور خوبصورت عمارت بنائی اور لوگ اس کے آس پاس چکّر لگا کر کہنے لگے :ہم نے اس سے بہترین عمارت نہیں دیکھی مگر یہ ایک اینٹ( کی جگہ خالی ہے جو کھٹک رہی ہے) تو میں (اس عمارت کی) وہ (آخری) اینٹ ہوں۔* 


(مسلم،ص965،حدیث:5959)


 *منقول*


            *🌹منتخب اردو تحریریں🌹*

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)