یہ تحریر ضرور پڑھیں, ایسی تحریریں بہت کم ملتی ہیں

Muhammad Naeem
0



*حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کہیں جانے کے لیے ایک مرتبہ کار میں بیٹھے ، خوب گرمی تھی اور لُو تھی ۔*


*حضرت نے فرمایا کہ ایئرکنڈیشن چلا دو ، ایئرکنڈیشن چلا دیا گیا لیکن کار میں ٹھنڈک نہیں آئی ۔*


*تو حضرت نے فرمایا کہ کیا وجہ ہے تمہارا ایئرکنڈیشن کچھ ناقص ہے ، ٹھنڈک کیوں نہیں آرہی ہے ۔*


*تو ڈرائیور نے کہا : شاید کار کا کوئی شیشہ کُھلا ہوا ہے ، جس سے باہر کی گرمی اندر آرہی ہے ۔*


*دیکھا تو ایک طرف شیشہ کُھلا ہوا تھا ، جلدی سے شیشہ بند کر دیا گیا اور تھوڑی ہی دیر میں پوری کار ٹھنڈی ہوگئی ، گرمی اور لُو سے حفاظت ہوگئی ۔*


*حضرت نے ایک عجیب بات فرمائی ، جو قابل وجد ( خوشی ) ہے ۔*


*فرمایا کہ اے سی چالو ہونے کے باوجود کار میں ٹھنڈک اس لئے نہیں آئی کہ اس کا ایک شیشہ ذرا سا کُھلا ہوا تھا ، اسی طرح اگر آنکھ ، کان ، زبان وغیرہ کا شیشہ کُھلا ہوا ہو ، تو دل میں ایمان کی ٹھنڈک داخل نہیں ہوسکتی ، اس لئے اگر ایمان کی ٹھنڈک چاہتے ہو ، تو آنکھ کان وغیرہ پر پابندی لگانا ہوگا اور ان کو بند رکھنا ہوگا ۔*


*واقعات پڑھئے اور عبرت لیجئے ، ص : 261*

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)