یاد رہے کہ ناجائز کاموں کیلئے تعویذ گنڈے ناجائز و حرام ہیں جبکہ جائز مقصد کیلئے گنڈے بنانا اور ان پر گرہ لگانا،قرآن مجید کی آیات یااللّٰہ تعالیٰ کے اَسماء پڑھ کر دم کرنا، جائز ہے ۔جمہور صحابہ ٔکرام اور تابعین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اسی پر ہیں۔( خازن، الفلق، تحت الآیۃ: ۱، ۴ / ۴۲۹ملتقطاً) اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے عملِ مبارک اور ارشاد سے بھی یہ چیز ثابت ہے ،چنانچہ
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے ،آپ فرماتی ہیں کہ جب حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہل میں سے کوئی بیمار ہوتا تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ مُعَوَّذات(یعنی سورہِ فَلق اور سورہِ ناس) پڑھ کر اس پر دم فرماتے۔( مسلم، کتاب السلام، باب رقیۃ المریض بالمعوّذات والنّفث، ص۱۲۰۵، الحدیث: ۵۰(۲۱۹۲))
اورحضرت عبید بن رفاعہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضرت اَسماء بنت ِعمیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے عرض کی : یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، حضرت جعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بیٹوں کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے ،کیا میں کچھ پڑھ کے ان پر دم کر دیاکروں ؟ارشاد فرمایا’’ہاں، کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر سے سبقت لے جا سکتی تو نظر ضرور اس سے سبقت لے جاتی۔( ترمذی، کتاب الطّب، باب ماجاء فی الرّقیۃ من العین، ۴ / ۱۳، الحدیث: ۲۰۶۶)
.jpeg)