ایک بھـن کی تحریر

Muhammad Naeem
0



*میرے بابا نے اچھا رشتہ ڈھونڈنے کی چاہ میں. میری شادی کی عمر گزار دی.*




اب میں 44 سال کی ہوں. اب تو کوئی بُرا رشتہ بھی مجھ سے شادی کرنے کو راضی نہیں ہوتا۔

 کیا ماں باپ ایسے بھی ہوتے ہیں؟ 

 ایک بہن کے سوال نے میرے دل پر ایسی چوٹ لگائی کہ میرا دل ریزہ ریزہ ہو گیا . اور میرا قلم اس موضوع پر لکھنے کے لئے خود بخود اٹھ گیا 

سمجھ نہیں آ رہا ۔ ایسی اولادوں سے ہمدردی جتاؤں. یا اور زیادہ صبر کرنے کی تلقین کروں ؟ 

یہاں میرے لفظ مجھے بندش لگائے دکھائی دے رہے تھے.

یا خُدایا یہ کیسا امتحان ہے!


وجوہات کوئی بھی ہوں مگر اتنی زیادہ عمر تک شادی نہ ہونا . کیا والدین اتنے خودغرض اور بے حس بھی ہو سکتے ہیں ۔ اگر آپ کو فرما بردار اور تابعدار اولاد مل جاتی ہے ۔ تو زیادتی کی حد تک اپنی اولادوں کو مت آزمائیں یہ گناہ کبیرہ ہے ۔ بلکہ اللہ تعالی کا شکر ادا کریں کہ دوسرے لوگوں کی بری اور آوارہ اولادوں کی طرح آپ کی عزت کی دھجیاں بکھیرتے نہیں پھرتے ۔


کیا اس بہن کی آنکھوں کے سامنے کوئی بارات نہ گزری ہوگی؟ 

کیا اُس کے دل میں کوئی حسرتیں نہ تھی ۔

کیا چھوٹے بچوں کو دیکھتے وقت وہ یہ نہ سوچتی ہوگی؟

کاش میرا بھی کوئی بیٹا یا بیٹی ہوتی!


ان چند الفاظ کی وجہ سے کئی بیٹیاں اپنے گھروں میں قید ہو کر رہ گئی ہیں کہ اچھا رشتہ نہیں مل رہا! اور والدین آپس میں یہ گفتگو کرتے ہیں 

یہ ہماری قوم کا نہیں ہے 

یہ ہم سے دور ہے ، یہ غریب ہے

یہ دیہات کا ہے ۔ 

والدین اپنے بچوں کو سمجھانے کی بجائے ان کے خوابوں کو اونچا کرتے چلے جاتے ہیں ۔ 

یا دوسری طرف ایسے بے حس والدین بھی ہوتے ہیں ۔ جو شادی کے موضوع پر کبھی اپنی اولاد سے گفتگو کرنا ہی پسند نہیں کرتے ۔ اور اگر کوئی رشتے دار آپ کی اولاد کی شادی کے بارے میں بات کرے تو برا مان جاتے ہیں ۔ 

یاد رکھیں اولاد کی شادی آپ کے فرائض میں شامل ہے ۔ اپنے گناہوں میں اضافہ مت کریں ۔ 


جب کہ دوسری طرف لڑکی والوں کے نخرے ختم ہی نہیں ہوتے. لڑکا کون سی نوکری کرتا ہے؟ عمر کتنی ہے ۔ 

گھر اپنا الگ ہے نا؟

بینک بیلنس کتنا ہے؟

تنخواہ کتنی ہے؟

گاڑی ہے نا؟

بنگلہ اپنا ہے نا؟

پلاٹ بچی کے نام کر دے گا نا؟


کیا کبھی کسی لڑکی والے نے یہ پوچھا دل کا کیسا ہے ایمان کا کیسا ہے ؟

احساس بھی کرتا ہے یا نہیں؟

نمازی بھی ہے یا نہیں؟

دین سے کتنا تعلق ہے؟

ّخوش اخلاق ہے؟

غصے کو پی جاتا ہے نا؟

جسے قرآن احادیث کا علم ہی نہیں وہ اپنی بیوی کے حقوق کس طرح ادا کر سکتا ہے ؟


کام نہ بھی کرتا ہو تو مسلہ نہیں. لڑکا محنتی ہونا چاہئے 

ہر بچہ اپنا رزق دنیا میں لے کر آتے ہیں


یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ لڑکا دل کا کیسا ہے.

سب کا یہ ہی سوال ہوتا ہے بینک بیلنس کتنا ہے.


پھر کہتے ہو اچھے رشتے نہیں ملتے.


دونوں اطراف سے اتنی ڈیمانڈ رکھ دی گئی ہیں 

دین اسلام کے مطابق تو اکثر لوگ اپنے بچوں کا رشتہ نہیں کرتے ہیں 

اسی لیے تو اب زنا کرنا تو آسان ہو گیا ہے. مگر نکاح کرنا بہت مشکل.


اپنے بچوں کی بڑھتی ہوئی عمر دیکھ کر آپ کو ذرا احساس نہیں ہوتا ؟ وہ اپنی تابعداری اور فرماں برداری میں آپ کی خدمت کر رہے ہیں لیکن ان کا کون ہو گا ۔ 

اللہ تو سب کا ہوتا ہے ۔ لیکن اللہ نے عقل بھی دی ہے ۔ اپنی غلطیوں اور حماقتوں کو لفظوں سے کھیل کر مت پورا کرنے کی کوشش کریں 


آپ کو نہیں لگتا کہ آپ اپنے بچوں کے ارمانوں کا گلہ گھونٹ رہے ہیں.

آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کے بچے بھی انسان ہیں. خواہشات اور حسرتیں اُن کے دل میں بھی ہیں.


آپ سے اچھے تو وہ والدین ہیں جو دو وقت کی روٹی بھی بڑی مشکل سے کھاتے ہیں ۔ لیکن بچوں کی شادی میں اپنے فرض سے کبھی غافل نہیں ہوئے ۔ ایسے بھی لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کو بہت کم جگہ ہوتی ہے لیکن بیٹے کی بیوی بھی لے آتے ہیں ۔ مسلہ غربت نہیں ۔۔۔ مجبوری اور حالات نہیں ۔۔۔ اصل چیز نیت ہے ۔۔۔


نکاح سے رزق بڑھتا ہے 


ہر جگہ والدین ٹھیک نہیں ہوتے.

کسی جگہ اپنی آنا کو مار کر مشترکہ فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں.

بچوں سے بھی پوچھا جاتا ہے اُن کو کیا پسند ہے.

وہ کہاں رشتہ کرناچاہتے ہیں؟

کیسارشتہ چاہتے ہیں؟

کبھی تو کسی شرابی زانی کے ہاتھ بیٹیوں کو سونپ دیتے ہیں کہ لڑکے کے گھر والے امیر ہیں پھر تباہی ان کا مقدر ہوتی ہے

تو کبھی 40 سال تک بچوں کی شادی نہیں کر سکتے.


کیسے ماں باپ ہو ؟

کیا جوان بیٹی کو گھر میں رکھ کر آپ کو زرا بھی احساس نہیں ہوتا کہ اُس کا جوبن نکلتا جا رہا ہے


کیا آپ کے دل میں خیال نہیں آتا کہ جب آپ خود اپنے بچوں کی عمر کے تھے تو آپ کے اندر کیا جذبات اور احساسات تھے ۔۔۔۔ اگر شادی کرنا گناہ ہے تو آپ نے کیوں کی ؟ شریعت میں اس کی تلقین کیوں کی گئی ۔؟ 

نکاح کو آدھا ایمان کیوں کہا گیا ؟


بچے گھروں میں بیٹھ کر موبائل پر وٹس ایپ پر ایک دوسرے کے ساتھ بےہودہ گفتگو کرتے ہیں. یہ بھی تو زنا ہے.

یا چُھپ چھپ کر ویڈیوز دیکھتے ہیں یہ بھی تو گناہ ہے.


ضروری نہیں کہ بچیوں کو گھر سے باہر جانے نہیں دیا جا رہا تو وہ محفوظ ہے..



سوچیئے گا ضرور

 اپنے بچوں سے مشورہ کر کے چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ہو اللہ کے احکامات اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات کی روشنی میں اولاد کا جلد از جلد نکاح کر دیجئے ۔ اپنے گناہوں میں اضافہ نہ کریں ۔ اللہ سے توبہ کریں ۔ آخرت میں آپ جواب دہ ہوں گے  

 جزاک اللہ خیرا.

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)