*✒️ از قلم:* ام نییرین مہاراشٹرا
_شادیاں نہ ہونا کتنا بڑا ایشو اور غور طلب مسئلہ ھے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ جس وقت آپ یہ پوسٹ پڑھ رہے ہیں ٹھیک اسی وقت پاکستان کے ہر چوتھے گھر میں ایک لڑکی تیس سال کی ہو چکی ہے شادی کے انتظار میں اور ان کے بالوں میں سفیدی آ لگی ہے_
جن کی تعداد لگ بھگ پچاس لاکھ بنتی ہے
ایک اوسط اندازے کے _مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ لڑکیاں شادی کی منتظر ہیں_
_اسی معاشرے کا ایک فرد ہونے کے ناطے ہمیں یہ مسئلہ اپنی طرف کھینچ رہا ہے_
_پچھلے تین چار ماہ سے ہم اس پہ ریسرچ کر رہے تھے کہ شادیوں کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے اور اس رکاوٹ کو کیسے دور کیا جا سکتا ھے؟_
_اس ضمن میں ہم نے کافی لوگوں سے بات کی ان کی رائے لی_
_پھر ان تمام آراء کی گروپ بندی کی ہم نے چھوٹی چھوٹی پرچیاں بنائیں اور پھر ان کا آپس میں ربط تلاش کیا ہماری اس تحقیق اور سروے کے مطابق_ _شادیوں کے ہونے میں سب سے بڑی رکاوٹیں چار چیزیں ہیں_
_جو نیچے تفصیل سے لکھی گئی ہیں_
*_1: جہیز یا ولور❌_*
_سب سے بڑی رکاوٹ جہیز یا ولور ہے والدین کو اکثر اوقات رشتہ تو مل جاتا ہے مگر جہیز یا ولور کے لئے پیسے نہیں ہوتے جہیز کا مطلب ہے کہ لڑکی کے والدین کو اتنا ذلیل کرنا کہ پھر وہ پوری زندگی قرض ہی ادا کرتے رہیں جبکہ ولور کا مطلب ہے کہ بیٹی کے شوہر کو نکاح سے پہلے مقروض کر کے اپنی بیٹی کو کسی مقروض کے گھر بھیج دیا جائے اس مسئلے نے تقریباً تمام غریب اور متوسط درجے کے لوگوں کو نشانہ بنایا ھوا ھے۔_
_جس کی وجہ سے تقریباً 28 لاکھ شادیاں نہیں ھوئی یا نہیں ہو رہیں_
*_2: ذات پات❌_*
_یہ وہ ناسور ہے جس نے کسی طبقے کو نہیں چھوڑا امیر اور غریب جاھل اور پڑھے لکھے سب اس میں شامل ہیں۔_
_یہ دوسری بڑی بیماری ہے جس نے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے اس ذات پات کی وجہ سے روزانہ ایک ہزار سے زیادہ رشتے رد کئے جاتے ہیں_
*_♦️3: بزدلی لالچ آئیڈیل_*
_یوں تو تقریباً ہر مسئلے کی وجہ ہی بزدلی ہوتی ہے اور یہ وسیع موضوع بھی ہے مگر ہم یہاں خاص طور پر بزدلی کو ایک بہت بڑا ناسور سمجھتے ہیں_
_کچھ والدین اپنی بیٹیوں کی شادی اس لئے نہیں کرتے کیونکہ وہ سوچتے ہیں یہ پڑھے پھر جاب کرے اور پھر شادی ہو جائے تاکہ ان کی زندگی بہتر گزرے مگر پڑھنے جاب دیکھنے اور پھر سال دو سال ان کے پیسے کھانے کے بعد لڑکی کو کہا جاتا ہے کہ اب خود رشتہ دیکھ لے_
_جبکہ وہ بیچاری 35 سال عمر کراس کر چکی ہوتی ہے بزدل صرف والدین نہیں ہوتے بچیاں بھی ہوتی ہیں مجھے کئی سو لوگوں نے یہ رائے بھی دی کہ ان کو وہ ہیرو یا آئیڈیل نہیں ملتا جو ان کو چاہیے پھر وہ ایک دن ویلنٹائن کے انتظار میں صرف ویلن کو گلے لگا لیتی ہیں_
_کچھ لڑکیاں لاڈلی بنی ہوتی ہیں تو وہ شادی اس لئے نہیں کرتیں کیونکہ ان کو ڈر ہوتا ہے یہ مزے وہاں نہیں ملے لگے بزدلی سے شادی نہ ہونے کا سب سے بڑا مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب لڑکی یا لڑکے کو عشق ہو جائے اور گھر والے نہ مانے پھر بھی ایک نمایاں تعداد شادی کرنے میں شرم محسوس کرتی ہے_
*_♥️4: دوسری شادیاں♥️_*
_بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ خوف سا ہے کہ دوسری شادی پتہ نہیں کتنا بڑا ظلم ہے_
_ایک تو ہماری زبانوں میں دوسری بیوی کا نام اتنا خوفناک ہے سوتن بن وغیرہ_
_جس سے لوگ ڈر جاتے ہیں_
_انڈین کلچر رسومات فلمیں ڈرامے اور سوپ سیریلز نے پاکستانی لوگوں کی زندگیاں خراب کر دی ہیں_
دوسری شادی کو ایک_ _معاشرتی ناسور بنا کر رکھ دیا گیا ہے عورت ہی عورت کی دشمن ہے جبکہ مرد اگر انصاف کر بھی سکتا ہو تو دوسری شادی کا نام نہیں لے سکتا_
*حل:* 👇🏼
_ہمیں چاہیے کہ ایک بھرپور تحریک چلائیں_
_شادی ھالوں دھوم دھام والی شادیوں جہیز ولور سجاوٹ پہ بے پناہ اخراجات نمود و نمائش قیمتی اور انتہائی مہنگے ڈریس اور ذات پات کا مکمل بائیکاٹ کریں_
_لڑکی والوں کے گھر کھانے پہ مکمل پابندی لگا دی جاۓ_
_،نکاح انتہائی سادہ اور مسجد میں کیا جاۓ_
_مروجہ ناجاٸز مہندی مایوں اور دیگر خرافات پہ سخت پابندی اور سزائیں ہوں_
_شادی کے جملہ اخراجات دلہے کی ایک تنخواہ یا ماھانہ آمدنی سے زیادہ نہ ہوں_
_نکاح کی دستاویزات اور مراحل بہت آسان ہوں_
_بارات بینڈ باجہ پہ پابندی ہو_
_نکاح پہ صرف دلہے کے گھر والے ھی آئیں_
_شادی کا بڑا فنکشن صرف اور صرف ولیمہ ہو_
_وہ بھی دلہا کی استطاعت کے مطابق_
_جبکہ حکومت کو چاہیے کہ ایک قانون بنائے جس کی رو سے کسی لڑکی یا لڑکے کو_ _تب تک یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملے جب تک وہ نکاح نامہ ساتھ نہ لائے_
_حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ جہیز ولور اور لڑکیوں کی شادی سے پہلے جابز پر مکمل پابندی لگائے_
_جاب صرف شادی شدہ خواتین کو دی جائے_
_یا ایسی خواتین کے لئے جابز کی رعایت کردی جائے جن کا کوئی اور زریعہ_ _معاش نہ جیسے بعض _خاندانوں کی کفالت خواتین خود کرتی ہیں جن کے والد یا بھائی وغیرہ نہیں ہوتے یا روزگار سے معذور ہوتے ہیں_
_سوسائٹی یہ بھی کر سکتی ہے کہ مشترکہ شادیوں کو ترویج دی جاۓ جہاں صرف ایک سادہ ڈش اور زیادہ سے زیادہ شادیاں ہوں_
_دوسری شادی کا رواج عام کیا جاۓ_
_جن مردوں کی مالی اور اسبابی استطاعت میسر ہے ان کی بیویاں اپنا ظرف بڑا کریں_
_اللّٰہ اجر دینے والا ھے_
_جس محلے یا یونین کونسل میں کوئی بیوہ یا مطلقہ عورت موجود ہو وہاں کا چیئرمین اس کی دوسری شادی کے لئے معاونت کا ذمہ دار ہو_
_انڈین میڈیا کی جہالت اور بھارتی رسومات ختم کرنے کے لئے اسلامی تعلیمات خانگی نظام اور شادی کے اصل طریقہ کار کی مناسب تشہیر کی جائے_
*_♦️یاد رکھیں..._♦️*
_جلدی شادیوں کا نہ ہونے سے زنا بڑھ رہا ہے_
_نسوانیت ختم ہو رہی ہے_
_مردانگی ضائع ہو رہی ہے_
_بے راہ روی عام ہو رہی ہے_
_معاشرتی ناہمواریاں پیدا ہو رہی ہیں_
_چھوٹی چھوٹی بچیوں کے ساتھ ریپ اور قتل و غارت ہو رہی ہے_
_اغلام بازی اور امرد پرستی یعنی کی نحوست بڑھ رہی ہے_
_اگر اب بھی کچھ نہ سوچا گیا تو آنے والا وقت مزید تباہی و بربادی کے ساتھ ہمارا منتظر ہے_
_اور سب سے بڑھ کر ہم سب نے اس کا جواب دینا ہے اللّٰہ کے ہاں_
_ضروری نہیں کہ تمام باتوں سے آپ اتفاق کریں_
_اگر کسی کوکوئی بات بُری لگی تو اصلاح فرمائیں_
_اس پیغام کو آگے بھیجیں_
_جزاك اللّٰہ خیرا دعاؤں میں یاد رکھئے گا
.jpeg)