تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

Muhammad Naeem
0

 


علامہ اقبال

مر مر کی سلوں سے کوئی بیزار نہیں ہے

رہنے کو حرم میں کوئی تیار نہیں ہے


کہنے کو ہر اک شخص مسلمان ہے لیکن

دیکھو تو کہیں نام کو کردار نہیں ہے


بیبا کی وحق گوئی سے گھبرآتا ہے مومن

مکاری وروباہی پہ اتراتا ہے مومن


جس رزق سے پرواز میں کوتاہی کاڈر ہو

وہ رزق بڑے شوق سے اب کھاتا ہے مومن


پیدا کبھی ہوتی تھی سحر جس کی اذاں سے

اس بندا مومن کوئی اب لاؤں کہاں سے


وہ سجدہ زمین جس سے لرز جاتی تھی یارو

اک بار تھاہم چھٹ گے اس بار گراں سے


جھگڑے ہے یہاں صوبوں کے ذاتوں کے نسب کے

اگتے ہیں تہہ سایہ گل خار غضب کے


یہ دیس ہے سب کا مگر اس کا نہیں کوئی

اس کے تن خستہ پہ تواب دانت ہیں سب کے


محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے

جمہور سے سلطانی جمہور ڈر ہے


تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا

مر مر کے جیے ہے کبھی جی جی کے مرے ہے


*اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں*


دیکھو تو زرا محلوں کے پردوں کر اٹھا کر

شمشیرو سناں رکھی ہے طاقوں میں سجا کر


آتے ہیں نظر مسند شاہی پہ رنگیلے

تقدیر امم سوگی طاوس میں آ کر


مکاری و عیاری و غداری و ہیجان 

اب بنتا ہے ان چار عناصر سے مسلمان


قاری اسے کہنا تو بڑی بات ہے یارو

اس نے تو کبھی کھول کے دیکھا نہیں قرآن


کردار کا گفتار کا اعمال کا مومن

قائل نہیں ایسے کسی جنجال کا


 مومن سرحد کا مومن کوئی بنگال کا مومن

ڈھونڈ ہے سے بھی ملتا نہیں قرآت کا مومن


*اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں*


*میاں افتخار حسین*

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)