18 سال میں ۔۔۔۔اب بچی نے ڈگری کیلیے ایپلائی کرنا ہے

Muhammad Naeem
0



20سال میں ۔۔۔۔(خاندان والوں نے رشتہ مانگا ہے) لڑکا ،لڑکی سے کم پڑھا لکھا ہے اس لیے نہیں دے سکتے ۔

21 سال میں۔۔۔۔(رشتہ آیا) ۔۔۔ہم ذات سے باہر نہیں دے سکتے 

22 سال میں ۔۔۔۔لڑکا کم آمدنی والا ہے ہماری بچی کو کیسے خوش حال رکھ پائے گا ۔۔اس لیے نا۔۔۔

23سال میں ۔۔۔لڑکا ملازمت کرتا ہے ۔۔سیلری کم ہے ۔۔۔اس لیے ناں۔۔

24سال میں ۔۔۔۔لڑکے کا رنگ سفید نہیں ہے ہماری بیٹی چٹی گوری ہے لہذا رشتہ میچ نہیں کرتا ۔۔۔اس لیے ناں۔۔

25سال میں ۔۔۔لڑکے کا اپنا مکان نہیں ہے کرابے پر ہے اس لیے ناں ۔۔۔۔

26 سال میں ۔۔۔لڑکا لڑکی سے زیادہ بڑی عمر کا لگتا ہے اس لیے ناں ۔۔۔۔

27سال میں ۔۔۔لڑکے کی پہلی بھی ایک بیوی ہے اس لیے ناں۔۔۔۔

28 سال میں ۔۔۔ سوچتا ہوں 

30سال میں ۔۔۔۔پیر جی ہماری بچی کیلیے کچھ کریں رشتے تو بہت آتے ہیں مگر میل جوڑ کا ایک بھی نہیں ۔

32سال میں ۔۔۔۔بیٹی کے سر میں سفید چاندی دیکھ کر باپ کو بیماریاں لگ گئیں۔

35 سال میں ۔۔۔لڑکی مایوس 

38 میں ۔۔۔۔ساٹھ سال کا رشتہ آیآ ہے آدمی مالدار ہے چار بچے ہیں چاروں اپنے اپنے گھر شادی شدہ ہیں ۔بس بابے کو سبنھالنا ہے ۔۔

40 میں ۔۔۔اب میں نے شادی نہیں کرنی ۔۔مجھ سے اب کون کرے گا ؟؟

خدارا اپنی سوچ بدلیں ۔۔بیٹیوں کی زندگی اجیرن بنانے ،خود کشی کرنے یا زندگی سے مایوس ہونے سے پہلے ہی حق زوجیت سے نوازیں ۔اور اپنے گھر پہنچانے کی فکر کریں ۔یہ ہر ماں باپ پر فرض ہے ۔وہ اولاد کے ولی ہیں ۔۔۔بچوں بچیوں کا حق ہے ماں باپ پر ۔۔۔ضرور ادا کریں ۔ایسا نہ ہو کہ کہیں دیر ہو جائے ۔۔۔

نکاح کو عام اور آسان کریں اور زنا کو مشکل

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)