ہمارا موبائل فون ھمارا ھی جاسوس نکلا

Muhammad Naeem
0



ہمارے موبائل فونز میں ممکنہ طور پر ہماری کیا کیا معلومات موجود ہیں۔

فیس ریکگنیشن والوں کا چہرہ، 

فنگر پرنٹس سے انلاک کرنے والوں کے فنگر پرنٹس،

سِری ہماری آواز سن رہی ہوتی ہے، 

فون کا جی پی ایس ہماری لوکیشن ٹریک کر رہا ہوتا ہے

ہمارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر: 

ہمارا نام

ہماری تاریخ پیدائش

ہماری تصویر

کس ملک کے کس شہر میں رہتے ہیں

ہماری فیملی

ریلیشن شپ سٹیٹس

کہاں گھومتے پھرتے ہیں

کس جگہ سے لاگ ان کرتے ہیں، 

کس ڈیوائس سے اوپن کرتے ہیں، 

دن میں کتنی مرتبہ، ہر بار کتنی دیر لاگ ان رہتے ہیں۔ 

کس سے زیادہ بات کرتے ہیں

 (جن پیجز، پروفائلز کو کم وزٹ کیا جائے، وہ نیوز فیڈ میں آنا بند ہو جاتے ہیں) 

گوگل میپ پر ہم جہاں جہاں گئے اسکا ریکارڈ موجود ہے۔

آج تک ہم نے جو سرچ کیا، چاہے ڈیلیٹ بھی کر دیا،

 اسکا ریکارڈ گوگل کے پاس موجود ہے۔  

ہر ایپ جو ہم ڈاؤنلوڈ کرتے ہیں، 

اسکا ریکارڈ۔ کتنی استعمال کرتے ہیں، کب کرتے ہیں،

 اس ایپ پر کس کس سے کتنی دیر کے لئے کس کس ملک میں رابطہ کرتے ہیں۔

ہماری یوٹیوب سرچ کا سارا ریکارڈ،

 تو آپ کس مذہب سے ہیں، کیا خیالات رکھتے ہیں، 

شادی کرنے والے ہیں یا پیرنٹ بننے والے ہیں،

 کھا نے پینے کے شوقین ہیں، ڈیپریسڈ ہیں۔

 یہ سب معلومات بھی گوگل کے پاس موجود ہے۔ 

ہر نیوز آرٹیکل، ہر ویب سائٹ، ہر امیج، ہر گوگل ایڈ، ہر چیز ریکارڈ میں ہے۔

 کہاں سے بیٹھ کر سرچ کیا، کتنی دیر کے لئے۔ 

ہر ای میل جو بھیجی گئی، ملی،

 حتی کہ سپیم میلز کا ریکارڈ۔ 

ہر تصویر جو کھینچی، کب کھینچی، کہاں کھینچی، وہ بھی محفوظ ہے۔ 

گوگل فِٹ آپ کے قدموں کی تعداد، کب کہاں۔ دل کی دھڑکن کی رفتار بھی۔ 

گوگل پر آپ کچھ سرچ کریں، 

اسی چیز کا ایڈ فیس بک دکھا دے گی۔

 یوٹیوب پر جو آپ نے سرچ کیا،

اسکی مطابقت سے اگلی سجیسشنز دی جائیں گی۔ 

سمارٹ فون کی صورت میں ایک جاسوس ہے

جو ہر وقت ہمارے ساتھ ہے، اور ہمیں پتہ بھی نہیں۔

جب میں چھوٹا تھا میرے ذہن میں آتا کہ کیسے اتنے موٹے موٹے رجسٹر فرشتے مینٹین کرتے ہوں گے۔

پھر سی ڈیز، یو ایس بیز آئیں۔ 

بات سمجھنی آسان ہوتی گئی۔

سالہا سال کے اعمال کیسے ریکارڈ میں رہ سکتے ہیں،

یہ اب سمجھ آنے لگی ہے۔ 

پرانے لوگوں کو اس پر یقین کرنا مشکل لگتا ہوگا

 لیکن ٹیکنالوجی کی ترقی جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں،

اس کے بعد اس بات کو سمجھنا قدرے آسان ہو جاتا ہے۔ ہمارا ڈیٹا محفوظ ہے، ہر چیز ریکارڈ ہو رہی ہے،

 اور ایک مقرر دن پر ہمارے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔

ڈرو اس دن سے جس دن یہ سب کچھ ریکارڈ شدہ ہمارے ہاتھ میں تھما دیا جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)