﷽ وَ عَاشِرُوۡہُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ
ترجمہ اور ان کے ساتھ بھلے انداز میں زندگی بسر کرو [عورتوں کے ساتھ] (سورہ بقرہ)
📚
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے لڑائی جھگڑا کرنا کفر ہے. [متفق علیہ]
✒️ بیوی کو لعن طعن اور گالم گلوچ کرنا یہ آج ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے ۔
ہر خاوند اپنی بیوی پر بے تُکی زبان چلانا اپنا حق سمجھتا ہے۔ جبکہ شوہر کو چاٸیے غلطی پر بھی اچھے انداز سے سمجھایا جائے۔
✒️آپ ﷺ نے سختی سے بیوی کو بُرا کہنے سے منع فرمایا ہے۔
حضرت حکیم بن معاویہؓ اپنے بارے سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا
ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے ۔؟
آپ ﷺ نے فرمایا جب تو کھائے تو اُس کو بھی کھلا اور جب تو پہنے تو اُس کو بھی پہنا اور اُس کے چہرے پر نہ مار اور نہ اُسے بُرا کہو [ابودائود ]
✒️مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی پر یا کسی بھی مسلمان پر لعن طعن کرے
✒️ میاں بیوی کا رشتہ برداشت اور مفاہمت سے ہی چل سکتا ہے نہ کہ گالم گلوچ سے۔
✒️عموماً غلطی جانبین سے ہوتی ہےاگر شوہر کی ہی غلطی ہو یا طبعی طور پر اس میں غصہ زیادہ ہو تو بھی نرمی اور حکمت سے اسے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگرحکمت و تدبیر سے سمجھانے کے باوجود وہ نہ سمجھے تو بھی برداشت اور مفاہمت سے کام لینا چاہیے۔
اور اِس پر بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر اس میں ایک خرابی یا برائی ہے تو بہت سی اچھائیاں بھی ہیں۔
✒️اور اسی طرح بیوی کا شوہر کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرنا بھی سخت گناہ ہے۔
کسی بھی مسلمان کو گالی دینا گناہِ کبیرہ ہے اور شوہر کا بیوی پر بہت بڑا حق ہے حدیثِ پاک میں ہے کہ اگر میں کسی کے لیے سجدے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ شوہر کو سجدہ کرے۔
شوہر کے لیے بھی شرعا گالیاں دینا اور مار پیٹ کرنا جائز نہیں ہے۔
.jpeg)