ناراض نہیں ہونا اختتام پڑھ کر۔ ازراہِ تفنن, طبع آزمائی کی ہے

Muhammad Naeem
0


اکبر بادشاہ نے بیربل کو کہا کہ اس کی مملکت میں سے 5 احمق ترین لوگوں کو ایک مہینے میں تلاش کرکے اس کے حضور پیش کیا جائے.

ایک مہینے کی جدوجہد کے بعد بیربل نے صرف 2 احمقوں کو پیش کیا. 

اکبر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تو 5 احمقوں کو پیش کرنے کا کہا تھا.

بیربل نے کہا کہ مہاراج، مجھے ایک ایک کرکے احمقوں کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے.

بیربل نے پہلا احمق پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا احمق اس لیے ہےکہ بیل گاڑی میں سوار ہونے کے باوجود اس نے سامان اپنے سر اٹھایا ہوا تھا.

دوسرے احمق کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کے گھر کی چھت پر گھاس کے بیج پڑے تهے. ان بیجوں کی وجہ چهت پر گھاس اگ آئی. یہ شخص اپنے بیل کو لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ بیل چھت پر چڑھ کر گھاس چر لے.

بیربل نے کہا مہاراج، بطور وزیر مجھے اہم امور سلطنت چلانے تهے. مگر میں نے ایک مہینے ضائع کیا اور صرف 2 احمق تلاش کئے. اسلئے تیسرا احمق وہ خود ہے.

بیربل نے ذرا سا توقف کیا. تو اکبر چلایا کہ چوتھا احمق کون ہے؟

بیربل نے عرض کیا کہ مہاراج، جان کی امان پاؤں تو عرض کروں.

بادشاہ نے حامی بھری اور اجازت دی کہ بتائے!


اس نے کہا کہ مہاراج، آپ بادشاہ وقت ہیں اور تمام رعایا اور سلطنت کے امور چلانے کے ذمہ دار ہیں. مگر قابل ترین اور اہل افراد کو تلاش کرنے کی بجائے آپ نے احمق ترین لوگوں کو تلاش کرنے میں نہ صرف اپنا وقت برباد کیا بلکہ ایک اہم وزیر کا وقت برباد کیا. لہٰذا چوتھے احمق آپ ہیں. 

مہاراج، پانچواں احمق یہ شخص ھے. جو کہ وٹس ایپ سے چمٹا ہوا ہے. اور اپنے دفتری فرائض اور خاندانی امور سے لاپرواہی برت رہا ہے. اور اپنا قیمتی وقت ضائع ہونے کا احساس تک نہیں کر رہا ہے. 


یہ سن کر شہنشاہ جلال الدین 

اکبر نے فوراً حکم دیا کہ اس کو جلد از جلد تمام گروپوں کو پوسٹ کرو. کیونکہ بہت سارے احمق ترین لوگ ایسی پوسٹوں کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں...

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)