اسکا کافی حد تک تعلق سائینس کی تعریف سے بھی ہے ۔ اکثر کے ہاں سائینس کو انسانی تجربات کا علم کہا جاتا ہے ۔ جبکہ سائینس دراصل اللہ کے مقرر کردہ اندازوں Calculations کا علم ہے جو اللہ نے مادی اور غیر مادی اشیاء کے حوالے سے مقرر کر دیئے ہیں ۔ مثال کے طور پر زمین کا سورج کے گرد رفتار کا اندازہ ۔ الیکٹرون ، پروٹان اور نیوٹران وغیرہ کا نیوکلیس کے گرد چکر لگانے کی رفتار کا اندازہ وغیرہ ۔ یہ اللہ کی بنائی ہوئی اس مادی کائنات میں کھربوں اندازوں Calculations میں سے محض دو اندازوں کا بیان ہیں ۔ باقی صرف ایک انسان کی جنیٹک کوڈ میں ایک ارب سے زیادہ اندازے یا Calculations پنہاں ہیں ۔ اللہ کے مادی اور غیر مادی اندازے تو مقرر اور نپے تلے ہیں لیکن لطیفہ یہ ہے کہ انسانی علم ہر دفعہ غلطی کھا جاتا ہے ۔ پکاسو نے اپنے مجسمہ سازی کے فن پر ایک سوال کے جواب میں بہت خوبصوت بات کی , اس نے کہا : میں مجسمہ نہیں بناتا ۔ مجسمہ تو پتھر کی چٹان میں موجود ہوتا ہے ، میں تو صرف زائد پتھر چھیل کر ہٹا دیتا ہوں ۔ اللہ کے اندازوں Calculations کا علم تو اربوں سالوں سے موجود اللہ کی تنہا حکمرانی کا ثبوت ہے مگر پکاسو بہت دیر سے بیدار ہوا ہے ۔ اور بیدار بھی ابھی پوری طرح سے نہیں ہوا جمائیاں اور انگڑائیاں ہی ختم نہیں ہو پا رہیں ۔
.jpeg)