سائنس اور مذہب کا مسئلہ

Muhammad Naeem
0




مذہب کو عقلی سطح پر ماننا اور منوانا ابتدائے مذاہب سے ہی انسانوں کا مسئلہ رہا ہے۔ انسان کو اللہ نے شعور جیسی نایاب چیز دے کر دنیا میں بھیجا تو پھر یہ ممکن نہیں رہا انسان کے لیے کہ وہ کسی بھی ایسی چیز کو درست مان لے جو اسکے شعور سے ماورا ہو، یا اسکی عقل اسکو صحیح نہ ماننے پر مجبور ہو۔


ابتدائی طور پر اللہ نے “معجزوں” کا طریقہ اختیار کیا، آدم علیہ السلام کی آسمانی آگ کہ اس وقت کا انسان جانتا تھا کہ آگ جب آتی ہے آسمان سے۔ بجلی کی صورت تو وہ صحیح غلط کو نہیں دیکھتی بلکہ اپنے راستے کی ہر چیز کو جلا دیتی ہے تو جب ایک آگ آسمان سے آئے مگر صرف ایک قربانی کو جلائے تو پھر یہ معجزہ ہے، اسی طرح صالح علیہ السلام ابتدائی گلہ بانی والے معاشرے میں آئے، ان کی قوم جانتی تھی کہ نہ کوئی جانور پتھر سے پیدا ہوتا ہے اور نہ اتنا پانی پی سکتا ہے اسی لیے یہ معجزہ تھا، اسی طرح باقی انبیاء کے معجزات کو بھی ہم کچھ حد تک سمجھ سکتے ہیں۔ ہر معجزہ اپنے زمانے کے علم کو عاجز کرنے والا ہوتا ہے۔


رسول اللہ کو قرآن دیا گیا۔ ایک کتاب جس کو حیات کاوداں عطا کی گئی کہ چاہے کچھ ہوجائے یہ کتاب اللہ کا پیغام پہنچاتی رہے گی جب تک اسرافیل صور نہ پھونکیں۔ غور کریں تو یہ معجزہ سب پر بھاری ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا اور نہ کبھی ہوگا۔ 


اب ایک دوسرا مسئلہ پیدا ہوگیا کہ چلو کتاب ہمیشہ سے ہے مگر وہ بدلتے زمانے کے ساتھ ہر دور کے لیے کس طرح معجزہ ہوگی؟ ہر چیز اپنے پیدائش یا تخلیق کے وقت کے ساتھ بندھی ہوتی ہے۔ یہی معاملہ قرآن کے ساتھ بھی ہے کہ اسکو حیات ابدی حاصل ہے مگر وہ ایک مخصوص زمانے اور حالات اور زبان کے اندر قید ہے۔ مثلاً عرب مکہ کے لیے اسکی زبان معجزہ تھی، وہ قرآن کی عربی کے سامنے عجمی یعنی گونگے بن گئے تھے۔ جب عرب نکلے دنیا میں اور دوسری اقوام اسلام میں داخل ہوئیں تو عربی وہ نہ رہی جو قریش مکہ کی تھی۔ جب زبان بدل گئی تو پھر قرآنی عربی کا معجزہ کا ادراک بھی کم ہوگیا۔ 


ایک اور پہلو انسانی تمدن کا یہ ہے کہ ہر دور میں کوئی ذریعہ علم ایسا ہوتا ہے جو انسان استعمال کرتا ہے حقیقت کی کھوج میں۔ وہ علم فلسفہ تھا تقریبا 14ویں صدی تک۔ قدیم بھارت اور یونان میں فلسفے نے جنم لیا۔ اس علم نے انسان کی رہنمائی کی حقیقت کی مابعدالطبیعاتی تشریح کے لیے۔ 


یہ بھی بہت اہم سوال ہے کہ حقیقت کیا ہوتی ہے اور کیا ہم جو اپنی عقل و حواس کے قیدی ہیں کبھی کسی حقیقت کو پا بھی سکتے ہیں؟ ان سوالوں کو ابھی چھوڑ دیں۔ 


سائنس کا جب ظہور ہوا اور انسان کو پتہ چلا کہ یہ وہ ذریعہ علم ہے جو نہ صرف اس کائنات کی بہتر تشریح کرتا ہے بلکہ ہم اسکو تجرباتی طریقے پر استعمال کرکے صحیح غلط کا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔سائنس کے اصولوں میں یہ طاقت بھی ہے کہ انسان فطرت کو موڑ کر اپنے لیے کئی فائدے بھی حاصل کرسکتا ہے۔ 


اس حیرت انگیز دریافت نے انسان کو جکڑ لیا اور اس نے ہر چیز کو سائنسی نقطہ نظر سے دیکھنا شروع کردیا۔ تمام بھوت پریت، جادو کا اثر، بدروحوں کا سایہ اور ہزاروں دوسرے خیالات غلط ثابت ہوتے گئے۔ انسان کو یقین کامل ہوگیا کہ اب ہزاروں برس بعد اسکے ہاتھ شاہ کلید لگی ہے جس سے وہ تمام حقائق کو پالے گا۔


فلاسفہ نے بھی سائنس کے تصورات کو اپنایا اور Philosophy of Science کا علم پیدا ہوا۔ 


اب آتے ہیں واپس اسلام قرآن اور مسلمانوں کی طرف، شروع میں مسلمانوں نے یونانی فلسفے کو اپنایا اور اپنے مذہب کی تشریح کی اور اسکی عظمت ثابت کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ عیسائیت پر فلسفیانہ میدان میں کامیابی سمیٹی اور فلسفیانہ طرز فکر نے فقہ کہ بھی بہت خدمت کی۔ فقہ کا بنیادی اصول کہ 4 ذرائع ہیں شریعت کے، قرآن حدیث اجماع اور قیاس، معتزلی فلسفی عالم و اصل بن عطا سے منسوب ہے جس کو امام شافعی نے اپنی کتاب الرسالہ میں بیان کیا۔ اسکے بعد بہت لمبی داستان ہے کہ کس طرح فلسفہ کلام بنا اور کس طرح اس نے اسلام کا حلیہ تبدیل کیا۔


پچھلی ایک صدی سے مسلمانوں کا یہ مسئلہ ہے کہ ہم کو قرآن کو اگر الہامی کتاب ثابت کرنا ہے تو ہم کو سائنس کو قرآن سے برآمد کرنا ہوگا۔ اصولی طور پر غلط اپروچ نہیں ہے کہ آج ہر کوئی سائنس کی زبان سمجھتا ہے۔ سائنس کے علاوہ سچائی کا وجود تسلیم نہیں کیا جاتا۔ 


مگر زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ ہم سائنس کا دائرہ متعین کریں کہ کہاں تک سائنس کی اڑان ہے؟ یہ طے کیے بغیر ہم مذہب کے میدان میں ہمیشہ دفاعی پوزیشن پر ہونگے۔ 


سائنس مابعدالطبیعاتی سوالوں کے جواب نہیں دے سکتی کیونکہ سائنس کسی بھی حال میں مادے سے باہر نہیں دیکھ سکتی۔ اس کو لامحالہ 4 جہتوں میں ہی رہنا ہے۔ فزکس کے ماہرین اپنی تھیوریز کو عام فہم انداز میں بیان کرتے ہیں جیسے string theory کی مثال لیں۔ اس میں 11 جہات ہیں۔ اس تھیوری کی عوامی تشریح کو لے کو ہمارے نوجوان اور سپیکرز قرآن کے معجزات اور قیامت کے حالات بتانا شروع ہوجاتے ہیں اور عوام کو لگتا کہ کہ اف!!! قرآن یہ سب کہتا ہے، سبحان اللہ۔ 


کوئی یہ نہیں سوچتا کہ یہ 11 جہات کہاں سے آئیں؟ کیا ثابت ہوگئیں؟ اگر ہاں تو کیسے؟ 


آج کی فزکس کے پاس نہ نہ string theory, simulation theory, black hole ، parallel universe, worm holes, کی کوئی تجرباتی دلیل نہیں۔ تمام باتیں خیالی ہیں، فلسفیانہ ہیں۔ مگر یہ فلسفہ یونانی فلسفہ نہیں بلکہ advanced mathematics ہے۔ اس میں بہت ساری کلیات کو بس فرض کرلیا جاتا ہے بالکل فلسفے کی طرح۔ 


اسکی مشہور مثال بگ بینگ کے خالق Lemaitre اور آئن سٹائن کی بحث ہے کہ جب اس نے آئن سٹائن سے کہا کہ تمہاری equation کو حل کیا جائے تو کائنات کا آغاز ماننا پڑے گا۔ آئن سٹائن کا جواب تھا کہ 


‏Your calculations are correct, but your grasp

‏of physics is abominable


تمہاری میتھ درست ہے مگر فزکس تمسخر انہ ہے۔ 


مختصر یہ کہ فزکس کی آجکل کی تمام تھیوریز کی دلیل صرف mathematics سے نکالی جاتی ہیں۔ اسکی کوئی تجرباتی دلیل ممکن نہیں۔ 

یہ تھیوریز ہمارے کائناتی قوانین کے اندر زبردست کامیاب ہیں، جیسے کوانٹم میکانکس سے سپر کمپیوٹر کے کامیاب تجربات کیے جاچکے ہیں۔ مگر ان کائناتی قوانین سے باہر یہ صرف اندازے ہی ہیں حقیقت کا بیان نہیں۔ مثلاً بلیک ہول میں وقت رک جاتا ہے، سب مانتے ہیں مگر کوئی تجرباتی نہیں mathematical proofs کی بنیاد پر۔


مجھ کو زیادہ بہتر اپروچ یہی لگتی ہے کہ قرآن کی آیات میں سائنس تلاش نہ کریں۔ اشاروں کو اشاروں تک ہی رہنے دیں۔ آج جب آپ سائنس کو قران ثابت کرنے کا معیار قرار دیں گے تو کل اگر سائنس غلط ثابت کردے تو بھی آپ کو ماننا ہوگا۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)